ریاست کے ٹھیکیداروں کے نام

 ریاست کے ٹھیکیداروں کے نام

میں ریاست کے خلاف نہیں ہوں، نہ ہی ریاست کے خلاف بولتا ہوں اور نہ ہی ریاست کو میری بات بری لگتی ہے ریاست میرے دل کے بہت قریب ہے اور ہم اس پہ جان لٹانے والے ہیں لیکن ریاست کے ٹھیکیداروں کو میری بات بہت بری لگتی ہے کیونکہ میں اس کے اس دھندے کو بند کرنے کی بات کرنا ہوں جس نے میرے ملک کے نظام کی جڑی کھوکھلی کر دی ہیں اور ایک جمہوری ملک کو فرعونیت کا روپ دے رہیں ہیں. ملک کے ادارے اس کی پہچان ہوتے ہیں اور اس میں کام کرنے والے ان اداروں کی پہچان ہوتے مختصر یہ ہوا کہ کام کرنے والے ریاست کے سفیر ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی کے ساتھ ہمارے ادارے دیس کے باسیوں کے ہاتھ سونپ دیے گئے ہیں جو ملک کے اس خوبصورت نظام کو اپنے طریقے سے چلانا چاہتے ہیں جہاں ان سے کوئی پوچھنے والا پیدا نہ ہو. پیارے دوستو میں اس ریاست پہ ایک نہیں بلکہ اگر ہزار جانیں بھی ہوں تو قربان کرنے کیلے تیار ہوں اور اس پہ اللہ پاک کا شکر ادا کرونگا لیکن جب اس ریاست کو بگاڑنے والے اپنے تھوڑے میٹھے اور لالچی ہو جائیں جو ریاست کی جڑی کھوکھلی کریں اور باہر سے شان و شوکت دکھائیں تو میں ان کے خلاف بولوں گا، لڑونگا اور لکھو گا چاہیے سیاہی میرے قلم کی سیاہی میرا خون ہی کیوں نہ ہو میرے اس مختصر کالم کا مقصد خون ایک باوقار شہری بنانا ہر اس کام سے بچنے نا پیغام ہے جو میرے ملک کا نام اور پہچان کے لیے باعثِ شرم ہو چاہتا ہوں کہ وہ نظام آے جس کے لیے اس ملک کی بنیاد رکھی جاے اور اگر کوئی مشکلات کھڑی کرنے کی کوشش کرے تو ایسے ظالموں کو، غداروں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے اپنے اور پراے کی پہچان کروائیں اور آخری بات کہوں گا کہ مرنا تو ویسے بھی ہے کیوں نا اس انقلاب کیلے لڑا جائے ایسی سرزمین کیلے اس مشکل وقت میں ڈھال بنا جائے جو مستقبل میں اسلام اور اللہ والوں کی بہت کام آئے گی.

عمر افتخار

Comments

Popular posts from this blog

جرنیلوں ،سیاسیوں ،صحافیوں اور عوام کے نام

A Cake Cutting Ceremony on the occasion of Celebration of 99th Republic Day of Turkey in Pakistan Monument Islamabad