جرنیلوں ،سیاسیوں ،صحافیوں اور عوام کے نام
تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کے نام کہ آپ لوگ عوام کی نمائندگی کرنے والے ہو یوں سمجھیں پورے پاکستان کی جب آپکی حکومت ہوتی ہے لیکن جب آپ سے اقتدار چلا جاتا ہے آپ کے گلے شکوہ ہوتے ہیں. آپ کے پاس کرسی ہوتی ہے تو کہتے ہو سب کچھ ہم کرتے ہیں جب چلی جاتی ہے تو اوروں کے نام لیتے ہو، ایکس، واے، زیڈ اور نیٹرل جیسے القابات استعمال کرتے ہو آپ اگر واقعی حقیقی آزادی اور جمہوریت کے لیے لڑ رہے ہو تو پہلے عوام کو ایکس، واے اور زیڈ کے بجائے نام لیکر بتائیں کہ یہ لوگ ہیں اور یہ چاہتے ہیں اور ان پر پھر ڈٹے رہیں اور اگر حکومت ہوتے ہوئے بھی پاس اختیارات نہ ہوں تو بھی کھل کر بتائیں کہ اختیار فلاں فلاں بندے کا ہے اور پھر اس پہ ڈٹے رہیں نہ بیان دن کو کچھ اور رات کو کچھ تاکہ عوام آپکے ساتھ کھڑی ہوسکے اور ملک کا بھلا ہو سکے اور انقلاب آسکے میری نظر جس طرح منظور پشتین کو لگتا ہے جرنیل ملک کا خانہ خراب کر رہیں ہیں تو وہ نام لیتا ہے اور ایکس واے نہیں کرتا اور نہ ہی اور القابات سے نوازتا صاف کہتا کہ یہ لوگ ظلم کرتے ہیں اب بات کرونگا صحافی بھائیوں کی کہ کیوں پارٹیوں کو سپورٹ کرتے ہو کوئی پی ٹی آئی تو کوئی مسلم لیگ نون سے وجہ سے جانا جاتا ہے صحافی کا اپنا ایک کردار ہونا چاہیے جو نہیں کرتے، ان کے چینل کے مالکان کو کہوں گا کہ جب کسی صحافی کو دھمکی ملتی ہے اس کی حفاظت کیا کریں اور ان کو یوں نوکری سے نہ نکالا کریں اگر آپ لوگ بھی ان لوگوں کا نام نہیں لیتے جو آپکو تنگ کرتے ہیں تو پھر کون کریگا اپنی طاقت کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ہاں موت اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے نہ کسی طاقت ور کے ہاتھ میں ہے اب آتا ہوں جج صاحبان کی طرف کہ آپ کے پاس وہ منصب ہے جس بہت ذمہ داری والا ہے غریب کو پھانسی اور امیر کو زمانت یہ والا کام اچھا نہیں ہے انصاف کا بول بالا ہونا چاہیے اور سزا امیر غریب کیلے ایک جیسی ہونی چاہیے اب ملک کے محافظوں سے کہوں گا کہ یہ ملک ہم نے اللہ اور اس کے بعد آپ کے حوالے کیا ہے لیکن حالات ایسے ہیں جو بھی الٹا سیدھا کام ہوتا ہے تو ساری کی ساری عوام کے رخ اپکی طرف ہوتے ہیں کسی زمانے لوگ اس ادارے سے بہت محبت کرتے تھے اب نفرت کیوں تو سن لو جرنیلوں ٹھیک ہو جاو تم لوگ ملک کے خادم ہوں اور ملک کی حفاظت کریں نہ ملک کو بیچ کہ کھائیں اور یہ غداری کے سرٹیفکیٹ بیچنا بند کر دیں، اب آخر میں اساتذہ کرام سے کہوں گا کہ بچوں کو حقائق پہ مبنی باتیں اور تاریخ پڑھایا کریں اور عوام سے کہوں گا لوگوں کیلے زندہ باد مردہ باد کے نعرے لگانے چھوڑ دیں جہاں لگتا ہے کوئی غلط تو صاف کہہ دیا کریں اور جو ٹھیک ہو ڈٹ کر اس کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تاکہ یہ ملک سنور سکیں اور اس دوران اگر موت آبھی جاے تو افضل موت ہے دعا ہے اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور جو بھی ملک کا غدار ہے اس کو نیست و نابود کرے.
عمر افتخار

Comments
Post a Comment