ریاست کے ٹھیکیداروں کے نام میں ریاست کے خلاف نہیں ہوں، نہ ہی ریاست کے خلاف بولتا ہوں اور نہ ہی ریاست کو میری بات بری لگتی ہے ریاست میرے دل کے بہت قریب ہے اور ہم اس پہ جان لٹانے والے ہیں لیکن ریاست کے ٹھیکیداروں کو میری بات بہت بری لگتی ہے کیونکہ میں اس کے اس دھندے کو بند کرنے کی بات کرنا ہوں جس نے میرے ملک کے نظام کی جڑی کھوکھلی کر دی ہیں اور ایک جمہوری ملک کو فرعونیت کا روپ دے رہیں ہیں. ملک کے ادارے اس کی پہچان ہوتے ہیں اور اس میں کام کرنے والے ان اداروں کی پہچان ہوتے مختصر یہ ہوا کہ کام کرنے والے ریاست کے سفیر ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی کے ساتھ ہمارے ادارے دیس کے باسیوں کے ہاتھ سونپ دیے گئے ہیں جو ملک کے اس خوبصورت نظام کو اپنے طریقے سے چلانا چاہتے ہیں جہاں ان سے کوئی پوچھنے والا پیدا نہ ہو. پیارے دوستو میں اس ریاست پہ ایک نہیں بلکہ اگر ہزار جانیں بھی ہوں تو قربان کرنے کیلے تیار ہوں اور اس پہ اللہ پاک کا شکر ادا کرونگا لیکن جب اس ریاست کو بگاڑنے والے اپنے تھوڑے میٹھے اور لالچی ہو جائیں جو ریاست کی جڑی کھوکھلی کریں اور باہر سے شان و شوکت دکھائیں تو میں ان کے خلاف بولوں گا، لڑونگا او...
Comments
Post a Comment